Skip to content

Home

About Us

Advertisement

Contact Us

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • Pinterest
  • WhatsApp
  • RSS Feed
  • TikTok
نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری منڈی بہاءالدین

  • صفحہ اؤل
  • اسلامی مضامین
  • شاعری
  • مضامین
  • افسانہ
  • طنزومزاح
  • کالم
Search
ڈائری ۸۳ء | افسانہ | مستنصر حسین تارڑ

ڈائری ۸۳ء | افسانہ | مستنصر حسین تارڑ

ڈائری ۸۳ء

پہلا دن، فقیر آتا ہے، صدا دیتا ہے، چلا جاتا ہے، پتہ نہیں کیا صدا دیتا ہے، کہاں سے آتا ہے، کہاں چلا جاتا ہے لیکن فقیر ہے اور صدا دیتا ہے۔ جمعرات ہو تو دس پیسے فی فقیر کے حساب سے اپنے رزق حلال سے نکالتا ہوں۔ محتاجوں، بیواؤں، یتیموں اور فقیروں کو خیرات دیتا ہوں۔ کر بھلا سو ہو بھلا۔ لیکن اس فقیر کو کچھ نہیں دے پاتا۔ کیونکہ وہ آتا ہے، صدا دیتا ہے، چلا جاتا ہے۔ پتہ نہیں کیا صدا دیتا ہے، کہاں سے آتا ہے، کہاں چلا جاتا ہے، لیکن فقیر ہے اور صدا دیتا ہے۔ پتہ نہیں کیا کہتا ہے۔ کون سی زبان میں کہتا ہے۔ اللہ رسولؐ کا نام لیتا ہے اور ان کے آگے پیچھے پتہ نہیں کیا’’بھالو بھالو‘‘ وغیرہ کہتا ہے۔
فقیر ہے، ظاہر ہے مانگتا ہی ہوگا۔ اور ان دنوں رزق حلال میں بھی کچھ کمی ہو رہی ہے۔ کہیں دھماکہ ہو جائے۔ گولی چل جائے تو رزق بھی ہراساں ہو جاتا ہے۔ ٹیئر گیس اس کی آنکھوں میں پڑ جائے تو اسے دکھائی نہیں دیتا اور دکھائی نہ دے تو میری جانب کیونکر آئے اور اب اگر میری جانب نہ آئے تو میں اسے خیرات کیسے کروں۔۔۔ اور خاص طور پر اس فقیر کی صدا ہی میری سمجھ میں نہیں آتی جو صدا دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔

اس کی صورت شکل ہم جیسی نہیں ہے۔ ہم تو ماشاءاللہ دراز قد، کھلی ہوئی رنگت اور فراخ سینوں کے مالک ہیں۔ لیکن وہ یونہی سا ہے۔ چھوٹے قد کا، نیم سیاہ، فاقہ زدہ اور چگی داڑھی والا، ہماری طرح خوش لباس بھی نہیں، پھٹی ہوئی چار خانی دھوتی اور پاؤں سے ننگا۔ ہاتھ میں چھتری بھی ضرور رکھتا ہے۔ آسمان کی جانب دیکھتا ہے جیسے ابھی بارش ہونے کو ہو۔ حالانکہ حماقت ہے۔ ہمارے ہاں اتنی بارش تو نہیں ہوتی۔ ہاں اس کی آنکھوں میں سازش ہے۔ لیکن اللہ رسولؐ کا نام لیتا ہے۔
تیسرا دن، لیجیے وہ فقیر پہچانا گیا۔ اپنے خواجہ صاحب آج اپنی بے پناہ مصروفیات میں سے وقت نکال کر مجھ غریب کو ملنے کے لیے تشریف لے آئے، کل ہی جاپان سے لوٹے ہیں۔ ۷۱ء سے پہلے خواجہ صاحب کا سابقہ مشرقی پاکستان میں بڑا وسیع کاروبار تھا۔ پھر وطن اور اسلام دشمنوں نے تخریب کاری سے وطن پاک کا وہ بازو الگ کر دیا تو وہ ادھر چلے آئے۔ دو کپڑوں میں تھے۔ اب کپڑوں کی ملوں کے مالک ہیں۔ ہاں تو خواجہ صاحب تشریف لے آئے اور اسی وقت وہ فقیر بھی آ گیا۔ اس نے صدادی تو خواجہ صاحب چونکے۔ اسے پاس بلایا۔ بٹھایا اور گفتگو کرنے لگے اور اسی غیرمانوس’’بھالو بھالو‘‘ زبان میں جس میں وہ صدا دیتا تھا۔ خواجہ صاحب نے بتایا کہ یہ فقیر بنگالی ہے۔ ملک دولخت ہوا تو ادھر بنگالیوں کی فہرستیں بنیں۔ یہ فقیر کسی درگاہ میں پڑا رہتا تھا۔ اس کا نام کون شامل کرتا۔ چنانچہ یہیں رہ گیا۔

اب زبان اسے نہیں آتی، اس لیے بنگالی میں ہی صدا دیتا ہے جو کسی کو سمجھ نہیں آتی۔ چنانچہ اکثر بھوکا رہتا ہے۔ پوچھو کہ بنگالی ہو تو پیٹ پر ہاتھ مارتا ہے کہ بھوک لگی ہے۔ مجھے ایک تو اس کی زبان سے اندازہ ہوا کہ بنگالی ہے۔۔۔ اور دوسرے اس کی آنکھوں سے جن میں سازش کی چمک ہے۔ سبھی بنگالی ایسے ہی تھے۔ شکر ہے ان سے جان چھوٹی اور پھر کوئی اتنے مسلمان بھی نہیں تھے۔ میں نے وہاں مولویوں کے گھروں میں بھی ہارمونیم دیکھے تھے۔ جتنا عرصہ وہاں قیام رہا مجال ہے کسی بنگالی کو پاس بھی بیٹھنے دیا ہو۔ مجھے تو گھن آتی تھی ان سے۔ میں نے پوچھا خواجہ صاحب اگر گھن آتی تھی تو غلاظت کی اس پوٹی کو اب کیوں پہلو میں بٹھا رکھا ہے۔ وہ بولے۔ بھئی کبھی یہ ہمارے بھائی ہوتے تھے۔ دیکھ کر جی بھر آیا۔
وہ فقیر جانےگا تو خواجہ صاحب نے اس کی ہتھیلی پر ایک اٹھنی رکھ دی اور گلوگیر ہوکر کہنے لگے۔ آہا۔ یہ فقیر متحدہ پاکستان کی آخری نشانی ہے۔ اب بھی بھالو بھالو کرتا ہے۔ ویسے ان لوگوں نے ہمارے ساتھ جو غداری کی، اسے کون بھلا سکتا ہے۔ فقیر نے سکے کو غور سے دیکھا اور شاید اس پر لکھی ہوئی بنگالی عبارت پڑھ کر خوش ہوا کیونکہ اس زبان کو پڑھنے والا شاید وہی واحد شخص اس ملک میں باقی تھا اور پھر اسی زبان میں صدا دیتا ہوا چلا گیا۔

ساتواں دن، وہ فقیر ابھی آتا ہے، صدا دیتا ہے، چلا جاتا ہے۔ پتہ نہیں کیا صدا دیتا ہے، کہاں سے آتا ہے، کہاں چلا جاتا ہے۔ لیکن فقیر ہے اور صدا دیتا ہے۔ اور۔۔۔ اکیلا صدا نہیں دیتا۔ بلکہ اس کے پیچھے پیچھے ایک اور فقیر ہے جو صدا دیتا ہے۔ پتہ نہیں اس کے پیچھے کوئی اور فقیر ہوتا بھی ہے یا نہیں۔ میرا واہمہ ہے جو میں دیکھتا ہوں لیکن مجھے دکھائی دیتا ہے اور اس کی صدا صاف سنائی دیتی ہے۔ یہ بھی کسی غیرمانوس زبان میں صدا دیتا ہے۔ بیچ میں اللہ رسولؐ کا نام بھی آتا ہے۔ میں نے کئی لوگوں سے پوچھا ہے اور وہ سب یہی کہتے ہیں کہ تمہارا دماغ چل گیا ہے فقیر تو اب بھی ایک ہی آتا ہے۔ صدا دیتا ہے اور چلا جاتا ہے۔ لیکن مجھے تو دوسرا فقیر دکھائی دیتا ہے۔ اس کی صدا سنائی دیتی ہے۔ فضا میں ہوائیں چلتی ہیں سائیں سائیں کرتی ہوئیں۔ یا شاید سائیں سائیں کرتی ہوئیں۔ میں کیا کروں۔ مجھے دوسرا فقیر بھی دکھائی دیتا ہے۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Featured Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Search

Author Details

مزمل حسین چیمہ

بوسال سکھا

  • X
  • Instagram
  • TikTok
  • Facebook

Follow Us on

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • VK
  • Pinterest
  • Last.fm
  • TikTok
  • Telegram
  • WhatsApp
  • RSS Feed

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)

Archives

  • July 2026 (33)
  • June 2026 (34)
  • May 2026 (14)
  • April 2026 (1)

Tags

آزاد حسین آزاد (1) آغر ندیم سحر (1) امرتا پریتم (4) اکرم جاذب (9) دائم اقبال دائم (1) سید حسنین محسن (1) شعیب الحسن بوسال (1) عقیل عباس (13) فرح گوندل (2) محبوب زاہد (1) مزمل حسین چیمہ (26) مستنصر حسین تارڑ (13) مظہر اقبال گوندل (1) ندیم اکرم ورک (1) نعیم رضا بھٹی (2) ڈاکٹر فاخرہ نورین (1) یسریٰ وصال (1)

About Us

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری پر “نگارشاتِ منڈی بہاءالدین” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے؛ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم جہاں منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، لکھاری، کالم نگار، محققین اور اہلِ قلم کی تخلیقات کو ایک باوقار اور مستقل جگہ فراہم کی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم نئی اور سینئر دونوں نسلوں کے تخلیق کاروں کے لیے یکساں طور پر وقف ہے، تاکہ ان کی علمی و ادبی خدمات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔

اگر آپ کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے اور آپ شاعری، افسانہ، مضمون، کالم، تحقیق یا کسی بھی ادبی صنف میں تخلیق کرتے ہیں، تو ہم آپ کو اس ادبی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Latest Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)
  • Instagram
  • Facebook
  • LinkedIn
  • X
  • VK
  • TikTok

Proudly Powered by Findora Directory | Managed by: Muzammal Hussain Cheema (Busal)

Scroll to Top