اس نماز کا کیا فائدہ جس میں خچر ڈریسنگ میں نہیں
مونا ڈپو میں فوج کی ضرورت کے لیے خچروں اور گھوڑوں کی پرورش کی جاتی ہے یہاں پر گھوڑوں کو خاص قسم کے کاشن (فوجی زبان میں حرکت کرنے کے لیے لگائی گئی آواز ) دیا جاتا ہے جو سنتے ہی گھوڑے خچر سب ایک لائن میں سیدھے کھڑے ہوجاتے ہیں اک اصطبل کے انچارج حوالدار میجر تھے مولوی ٹائپ تھے جو نماز روزے کے پابند تھے نئے کپتان صاحب آئے تو انہوں نے تمام اصطبلوں کا معائنہ کیا سب سے زیادہ غیر تربیت یافتہ اور گندے گھوڑے خچر مولوی صاحب کے تھے کپتان صاحب کے استفسار پر انہیں بناتا گیا کہ مولوی صاحب مسجد میں نماز پڑھنے گئے چند دن بعد معائنہ کیا تو وہی صورتحال مولوی کا پوچھنے پر بتایا گیا مولوی صاحب مسجد میں قران پڑھ پر رہے ہیں کچھ دن بعد جب دوبارہ معائنہ ہو تو مولوی صاحب پھر موجود نہیں تھے اور ان کے ذمہ اصطبل کی صورتحال خراب تھی کپتان کو غصہ آیا اور مولوی صاحب کو طلب کر لیا گیا مولوی صاحب ہانپتے ہوئے پہنچے اور آتے ہی کہنے لگے سر میں نماز پڑھ رہا تھا کپتان پہلے سے ہی تپا ہوا تھا کہنے لگا او مولوی صاحب اس نماز کا کیا فائدہ جس میں خچر ہی ڈریسنگ میں نہیں جس طرح مولوی اپنی ذمہ داری چھوڑ کر تسبیح نماز قران ہی کرتا رہتا تھا اسی طرح ہمارے اردگرد بھی بہت سے کردار بظاہر مہذب سلجھے نمازی پرہیزی ہیں مگر اجتماعی کاموں میں ذمہ داری ادا کرنے کے بجائے تسبیح ہاتھ میں پکڑ کر سائیڈ ہو جاتے ہیں اور معاشرے میں شیطان پنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے








Leave a Reply