Skip to content

Home

About Us

Advertisement

Contact Us

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • Pinterest
  • WhatsApp
  • RSS Feed
  • TikTok
نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری منڈی بہاءالدین

  • صفحہ اؤل
  • اسلامی مضامین
  • شاعری
  • مضامین
  • افسانہ
  • طنزومزاح
  • کالم
Search
طلاق اور ہمارا فیملی سسٹم

طلاق اور ہمارا فیملی سسٹم

طلاق اور ہمارا فیملی سسٹم
کالم نگری | آغر ندیم سحر | 92 نیوز
  نوٹ:یہ کالم 26 جولائی 2026 کو 92 نیوز میں چھپا ہے۔

زندگی کی چکا چوند میں ہم نے جس تیزی سے اپنی روایات اور اخلاقیات کو پس پشت ڈالا اور نام نہاد روشن خیالی اور ماڈرن ازم کے نام پر اپنی نسلوں کو جو نصاب پڑھایا،وہ اس معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کر گیا۔ہر طبقے،مسلک اور خاندان نے اپنے تئیں،ایسی رسموں کو پروان چڑھایا جنھوں نے معاشرے کی فرسودگی میں اضافہ کیا،وہ رسمیں جن کا ہمارے مذہب اور سماج سے کچھ لینا دینا نہیں تھا،ہم نے خاندانی نظام کو ان رسموں کی بھینٹ چڑھا دیا۔ہماری نئی نسل جسے ہم نے اپنے ساتھ جوڑنا تھا،جھوٹی رسموں اور روایات کی بدولت ہم نے اسے خود سے کوسوں دور کر دیا،آج جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہمارے اختیار میں نہیں یا ہمارے بچے خراب ہو گئے ہیں تو اس میں کہیں نہ کہیں ہم بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔پہلے والدین ’’ڈی ٹریک‘‘ ہوتے ہیں اور پھر بچے۔کچھ عرصہ پہلے ہونے والی اداکارہ حمیرا اصغر کی افسوس ناک موت کے بعد یہ بحث مزید شدت اختیار کر رہی ہے کہ ہمارا خاندانی نظام اس قدر بنجر کیوں ہوا،قومی ٹی وی پر وقت کی قلت کے باعث جو باتیں نہیں کر سکا تھا،سوچا آج یہاں کر دوں کیوں کہ ان باتوں کا بہت گہرا تعلق ہماری نئی نسل سے ہے۔آج جسے ہم جنریشن گیپ کہہ کر شو ر مچا رہے ہیں،یہ گیپ ایک دن میں پیدا نہیں ہوا بلکہ اس کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے،وہ کہانی سمجھنے کی ضرورت ہے۔

خاندانی نظام میں جہاں لوگ ایک دوسرے سے گہرے جذباتی اور خونی رشتے میں بندھے ہوتے ہیں،وہاں معاشرتی اقدار ،روایات اور اخلاقیات بھی اس ڈھانچے کو طاقت ور بنانے میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔اگر یہ ڈھانچہ اندرونی خلفشار،نظریاتی و اخلاقی اختلاف کی وجہ سے کمزور پڑ جائے تو نئی جنریشن اس سے بری طرح متاثر ہوتی ہے اور یہاں سے اس بے راہ روی کا آغاز ہوتا ہے جس کا انجام بھیانک موت ہوتی ہے یا پھر خودکشی اور نفسیاتی مسائل۔یہ بے راہ روی جس میں انسان وقتی خوشی یا زندگی کی چکا چوند روشنی تلاش کرنے میں نکلتا ہے،ایک وقت آتا ہے اس زندگی کی انسان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔زندگی کی خوبصورتی اور عنائی اس وقت تک درست ہوتی ہے جب تک اس سے آپ کا خاندانی نظام متاثر نہیں ہوتا اور جب آپ اپنی اولاد،خاندان،کونی رشتوں،اپنی روایات کو اپنے کیرئیر پر قربان کر دیتے ہیں تو بدلے میں آپ کو کیا حاصل ہونا ہے،اس کا فیصلہ آپ کے اختیار سے باہر ہو جاتا ہے۔

اب یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر والدین ہی اپنی اولاد کا کیرئیر اپنی جھوٹی انا،تکبر اوربغض کی بھینٹ چڑھا دیں،انھیں ایسی آگ میں جھونک دیں جن سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہیں تو وہاں اولاد کو کیا کرنا چاہیے؟یہ واقعی ایک تکلیف دہ صورت حال ہے جس سے نمٹنے کی فی زمانہ اشدضرورت ہے کیوں کہ مشرق اور بالخصوص پاکستان میں ایسے ہزاروں واقعات ریکارڈ ہوچکے جہاں بچے بالکل بے قصور تھے،انھیں اپنے والدین کے ’’کرموں‘‘ کی سزا بھگتنا پڑی،انھیں وہ دکھ بھی سہنا پڑے،جو ان کے بنتے نہیں تھے۔یہی وہ مقام ہے جہاں سے بغاوت جنم لیتی ہے،جب نئی نسل کو یہ محسوس ہونا شروع ہو جائے کہ ہمیں تو وہ نصاب پڑھایا جا رہا ہے،جس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں تو وہ باغی ہو جاتے ہیں جنھیں ہمارے ہاں’’بدتمیز‘‘کہا جاتا ہے۔بدتمیزی کا کہیں نہ کہیں تعلق ہمارے ان مسائل سے ہوتا ہے جو ہم نئی نسل پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں،اس کے بعد ہی وہ خلا پیدا ہوتا ہے جسے پر کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔خاندانی نظام کسی بھی معاشرے میں انتہائی اہمیت رکھتا ہے مگر اسے مضبوط اوراسے دیرپا بنانے میں جہاں بچوں کا اہم کردار ہے ،وہاں والدین کا بھی ہے اور میرے خیال سے والدین پر زیادہ بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کیوں کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں،ان سے غلطیاں بھی ہوں گی اور بدتمیزیاں بھی،اگر والدین دل بڑا کریں گے تو ان غلطیوں کا ازالہ ممکن ہوگا ورنہ یہ غلطیاں والدین کے لیے درد سر بنا جاتی ہیں اور بچوں کے لیے موت کا باعث۔

ہم اپنی ناک بچانے کے لیے کیا کچھ نہیں کرتے،وہ ناک جو بعد از مرگ سب سے پہلے ڈی کمپوز ہوتی ہے۔ہمارے والدین اپنی ناک پر اولاد بھی قربان کر دیتے ہیں اور خاندان کے خاندان بھی۔ہم اپنی من گھڑت رسم و رواج کو اپنی اولاد اور خاندان پر ترجیح دیتے ہوئے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جب یہ سب ختم ہو جائے گا تو ہم کہاں ہوں گے؟اداکارہ عائشہ خان اور حمیرا اصغر کی خاموش موت ہو یا کہ پروفیسر نیاز احمد،کرکٹر اور اداکارہ شیفالی کا کارڈ اریسٹ،ملتان کے نوجوان کی خودکشی ہو یا پھر فاونٹین ہائوس میں پڑے نوجوانوں کا پاگل پن،اس سب کے پیچھے ہمارے خاندانی نظام کی وہ کمزوریاں ہیں جو ہمیں آہستہ آہستہ موت کی جانب دھکیل رہی ہیں،یہ کمزوریاں ہمیں تنہا بھی کر رہی ہیں اور ہمیں درجنوں نفسیاتی بیماریوں کا شکار بھی۔اگر اس سب کے باوجود ہمیں لگتا ہے کہ ہماری ناک بہت اہم ہے،ہمارا تکبر بہت اہم ہے،ہمارا بغض اور عداوت،ہمارے بچوں سے کہیں زیادہ ضروری ہے تو پھر ہمیں اپنا مستقبل کسی پاگل خانے میں دیکھنا چاہیے۔ہمیں خودکشی اور تنہائی سے بچائوں کی بیماریوں پر فوکس کرنا ہوگا،ہمیں نفسیاتی ڈاکٹرز سے بھی رجوع کر لینا چاہیے کیوں کہ وقت کا پہیہ کسی وقت بھی گھوم سکتا ہے۔

حال ہی میں ایک رپورٹ نے میرے اوسان خطا کر دیے،صرف اسلام آباد میں رواں سال میں پینتالیس ہزار علیحدگی کے کیسز ریکارڈ ہوئے،ان میں زیادہ تعداد خلع کی ہے،ملک بھر میں طلاق کی شرح میں ہوش ربا اضافہ ہوا ہے،خاندانی نظام سے تنگ آکر خود کشی کرنے والوں کی تعداد اس سے سوا ہے۔ایسے کیسز بھی سامنے آ رہے ہیں جس میں نوجوان محض اس لیے گھر چھوڑ رہے ہیں کہ انھیں ان کی مرضی کے خلاف فیصلے کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے،امی کی ناک اور ابو کی بات رکھتے رکھتے بچے اپنا مستقبل تباہ کر بیٹھتے ہیں،ایسی صورت میں ہمیں فیملی سسٹم کے لیے انتہائی سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Featured Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Search

Author Details

مزمل حسین چیمہ

بوسال سکھا

  • X
  • Instagram
  • TikTok
  • Facebook

Follow Us on

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • VK
  • Pinterest
  • Last.fm
  • TikTok
  • Telegram
  • WhatsApp
  • RSS Feed

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)

Archives

  • July 2026 (33)
  • June 2026 (34)
  • May 2026 (14)
  • April 2026 (1)

Tags

آزاد حسین آزاد (1) آغر ندیم سحر (1) امرتا پریتم (4) اکرم جاذب (9) دائم اقبال دائم (1) سید حسنین محسن (1) شعیب الحسن بوسال (1) عقیل عباس (13) فرح گوندل (2) محبوب زاہد (1) مزمل حسین چیمہ (26) مستنصر حسین تارڑ (13) مظہر اقبال گوندل (1) ندیم اکرم ورک (1) نعیم رضا بھٹی (2) ڈاکٹر فاخرہ نورین (1) یسریٰ وصال (1)

About Us

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری پر “نگارشاتِ منڈی بہاءالدین” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے؛ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم جہاں منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، لکھاری، کالم نگار، محققین اور اہلِ قلم کی تخلیقات کو ایک باوقار اور مستقل جگہ فراہم کی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم نئی اور سینئر دونوں نسلوں کے تخلیق کاروں کے لیے یکساں طور پر وقف ہے، تاکہ ان کی علمی و ادبی خدمات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔

اگر آپ کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے اور آپ شاعری، افسانہ، مضمون، کالم، تحقیق یا کسی بھی ادبی صنف میں تخلیق کرتے ہیں، تو ہم آپ کو اس ادبی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Latest Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)
  • Instagram
  • Facebook
  • LinkedIn
  • X
  • VK
  • TikTok

Proudly Powered by Findora Directory | Managed by: Muzammal Hussain Cheema (Busal)

Scroll to Top