اُن سا بیدارِ نظر، نورِ طلسمات کہاں
جز حسین ابنِ علیؑ، کشف و کرامات کہاں
تا ابد لکھتا رہے گا لبِ دریائے فرات
کوفۂ مرگ کہاں، عزتِ سادات کہاں
دیکھ لو کتنا تفرق ہے مقابل ان کے
خوگرِ ظلم کہاں، عشقِ مہمات کہاں
مدحتِ آلِ رسولِ عربیؐ کیسے ہو
لغتِ عالمِ فانی کی یہ اوقات کہاں
تا ابد سر بہ گریبان رہوں گا لیکن
ان کے احوال سے بڑھ کر میرے صدمات کہاں
نعیم رضا بھٹی








Leave a Reply