نظامِ کن میں ارتقا ضروری ہے
ترا کرم تری رضا ضروری ہے
میں اپنی خاک آنسوؤں میں گوندھ لوں
کہ اک سبیلِ کیمیا ضروری ہے
فصاحتوں کی حبس میں پڑا ہوں میں
مجھے حجاز کی ہوا ضروری ہے
جو با مراد اشک ہیں سمیٹ لوں
سفر میں ہوں سو آسرا ضروری ہے
وہ سامنے ہوں اور نظر ہٹے نہیں
فقیر کو بس اک دعا ضروری ہے
نعیم رضا بھٹی








Leave a Reply