اک گواہی جو یار دی میں نے
لا الہی سہار دی میں نے
لمسِ حسنِ عجیب کی خواہش
سر اٹھاتی تھی مار دی میں نے
اے جہنم کے بخیہ گر کی صدا
کھال گھاؤ پہ وار دی میں نے
ایک ڈائن سے نبھ گئی میری
عمرِ رفتہ گزار دی میں نے
نم گرفتو! ادھر چلے آؤ
لاٹ کی دھن سنوار دی میں نے
عقیل عباس








Leave a Reply