برف کی سل پہ لہو کے چھینٹے
کون منظر کی نگارش کو پڑھے
لمس پھیلاؤ کا باعث ہی نہ ہو
کھل گئے آپ کمر کے تسمے
زخم پر کھول دہن کی چھاگل
سبز رُو آگ رگیں تاپ سکے
جھڑتا جاتا ہے بدن کا گارا
اب کوئی ہو جو مرا لیپ کرے
غار کے منہ پہ کوئی دیو نہ ہو
اور اگر ہو تو نگل جائے مجھے
عقیل عباس








Leave a Reply