قرمزی نیند کے دھاگوں سے بدن کات لیا
بھاڑ میں جھونک دیے خوابِ سخن کات لیا
آپ کی سبز نگاہی کا فسوں طاری ہوا
اور منظر نے کوئی تازہ جتن کات لیا
چاند کا سوت کتا ، نور کی تہذیب ہوئی
بڑی اماں نے پڑی رات کا دھن کات لیا
دور تک دیکھتی جاتی تھی نظر کچھ بھی نہ تھا
ایک ہشیار نے پھر نیل گگن کات لیا
کوئی دن ایک صدا کار نے دستک دی تھی
میں نے آواز سنی اور دہن کات لیا
عقیل عباس








Leave a Reply