سپہ گری کا ہنر بھی سخن وری بھی ہو
میں چاہتا ہوں کہ لشکر بھی ہو پری بھی ہو
گلے لگا کے روانہ بھی کر سکوں اس کو
پلٹ کے آئے تو سازش کی مخبری بھی ہو
زمانہ کاکلِ خیبر ہے اور اس کے لیے
جمالِ کار وہی ہے جو حیدری بھی ہو
ملائم اتنی کہ چھونے سے نیل پڑ جائے
مُبارزت ہو تو آفت ہو بربری بھی ہو
فلک سرائے میں ٹھہری ہوئی ہو میرے لیے
زمین زاد ہو پوشاک سے بری بھی ہو
بجا کہ میرے لہو سے ہے مشغلہ اس کو
مگر وہ شاخِ املتاس اب ہری بھی ہو
عقیل عباس








Leave a Reply