زخمِ امید بھر گیا کب کا

جون ایلیا

جون ایلیا

تخلیق کار

زخمِ امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا

اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے
ناصحو میں سدھر گیا کب کا

آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل مری جان مر گیا کب کا

آپ اک اور نیند لے لیجئے
قافلہ کوچ کر گیا کب کا

میرا فہرست سے نکال دو نام
میں تو خود سے مُکر گیا کب کا

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریر
Scroll to Top