عجب اک طور جو ہم ایجاد رکھیں

جون ایلیا

جون ایلیا

تخلیق کار

عجب اک طور جو ہم ایجاد رکھیں
کہ نہ اُس شخص کو بھولیں نہ اس کو یاد رکھیں

عہد اُس کُوچۂ دل سے ہے سو اُس کوچہ میں
ہے کوئی اپنی جگہ ہم جسے برباد رکھیں

کیا کہیں کتنے نُقطے ہیں جو برتے نہ گئے
خوش بدن عشق کریں اور ہم اُستاد رکھیں

بے ستون اک نواحی میں ہے شہرِ دل کی
تیشہ انعام کریں اور کوئی فریاد رکھیں

آشیانہ کوئی اپنا نہیں پر شوق یہ ہے
اک قفس لائیں کہیں سے، کوئی صیاد رکھیں

یہاں تحریر کے نیچے والا اشتہار ظاہر ہوگا۔

« پچھلی تحریراگلی تحریر »
Scroll to Top