کون کہتا ہے تمہارے واسطے بیتاب ہوں - فائنڈورا ادب

کون کہتا ہے تمہارے واسطے بیتاب ہوں

کون کہتا ہے تمہارے واسطے بیتاب ہوں
زندگی سر سبز ہے اور میں بہت شاداب ہوں

روشنی کی اک کرن مجھ پر پڑی تو خود کو میں
غور سے دیکھا تو جانا میں بھی کچھ نایاب ہوں

مجھ میں در آیا تھا کچھ تو اپنی بینائی کا زعم
اور یہ بھی لگ رہا تھا میں تمہارا خواب ہوں

عارضہ لاحق ہوا تو سانس لے کر خوش ہوا
سانس لیتا تھا تو یہ لگتا تھا میں کمیاب ہوں

آئنوں نے دھوپ کو میرے مقابل کر دیا
اب دیے کے پاس ہوں اور خیر سے سیراب ہوں

Scroll to Top
Scroll to Top