Skip to content

Home

About Us

Advertisement

Contact Us

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • Pinterest
  • WhatsApp
  • RSS Feed
  • TikTok
نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری منڈی بہاءالدین

  • صفحہ اؤل
  • اسلامی مضامین
  • شاعری
  • مضامین
  • افسانہ
  • طنزومزاح
  • کالم
Search
بڑے شاعر اور ادیب کنوارے کیوں مر گئے | طنزومزاح | مستنصر حسین تارڑ

بڑے شاعر اور ادیب کنوارے کیوں مر گئے | طنزومزاح | مستنصر حسین تارڑ

بڑے شاعر اور ادیب کنوارے کیوں مر گئے

پنجابی صوفی شاعری میرے بدن اورروح میں ان پرتشدد زمانوں میں جب کہ بچوں، عورتوں اور معصوم لوگوں کو اور ہمارے جوانوں کو ہلاک کر کے اُن کے سر کھمبوں پر آویزاں کرنے والوں کو شہید قرار دیا جاتا ہے۔ بے وجہ قتال اور اپنی دھرتی کے خلاف ’’جہاد‘‘ کرنے کو جائز ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ صرف پنجاب کے صوفی شعراء کا کلام ہے جو مجھے ڈھارس دیتا ہے۔۔۔ کہ نہیں، بے شک یہ کشت ویراں ہے، اس میں بارود اور خون کی بو ہے۔۔۔ ایک بھٹے میں زندہ جلائے جانے والے بے قصور جوڑے کے جلتے ہوئے گوشت کی بو ہے لیکن یہ ہم نہیں، ہمارا دین یہ نہیں۔۔۔ میرے پیارے رسول ﷺ کا یہ پیغام تو نہیں اور یہ صرف پنجابی صوفی شاعر ہیں جو امن اور سلامتی کے اس پیغام کو عام کرتے ہیں۔ میاں محمد صاحب کہتے ہیں۔
بال چراغ عشق دا تے کر دے روشن سینہ

دل دے دیوے دی رُشنائی جاوے وِچ زمیناں
ہم تو عشق کا چراغ روشن کرنے والے ہیں اور ہمارے دل میں عشق رسول اللہؐ کا دیا جلتا ہے اُس کی روشنی تو زمینوں کے اندر تک چلی جاتی ہے۔ ہم نے یہ دِیا کبھی بجھنے نہیں دینا۔ بس یہی ہماری فلاح ہے اور یہی شفاعت کا واحد راستہ ہے۔

میں نے پچھلے کالم میں شیخ منظور الٰہی مرحوم کو یاد کرتے ہوئے اُن کی رہائش گاہ میں جو یادگار محفلیں ہوا کرتی تھیں اُن کا تذکرہ کیا تھا تو ایک بار مشتاق احمد یوسفی نے مختار مسعود صاحب سے پوچھا۔۔۔ اور یاد رہے کہ ’’آواز دوست‘‘ کے مصنف مختار مسعود صاحب سوہنی کے شہر گجرات کے باسی ہونے کے باوجود پنجابی میں کلام کرنے سے گریز کرتے ہیں اور نہایت نستعلیق اردو میں حاضرین محفل سے گفتگو کرتے ہیں، علی گڑھ کے تہذیبی حصار سے باہر نہیں آتے اور تانگے کو ہمیشہ ٹم ٹم ہی کہا کرتے تھے تو یوسفی صاحب نے پوچھا ’’مختار صاحب۔۔۔ ان دنوں آپ کی تخلیقی مصروفیات کیا ہیں‘‘ تو مختار مسعود کہنے لگے ’’ان دنوں میں صوفیا کرام کی عائلی زندگی کے بارے میں تحقیق کر رہا ہوں۔۔۔ کہ وہ کیسی تھی‘‘،
’’بری ہی ہو گی‘‘ یوسفی صاحب نے نہایت سنجیدگی سے کہا ،تبھی تو وہ صوفی ہو گئے

پچھلے دنوں میرے دوست مشتاق صوفی نے، اور وہ عجیب سے صوفی ہیں، انہوں نے ایک انکشاف کیا کہ جتنے بھی بڑے صوفی شعراء ہو گزرے ہیں اُن میں سے بیشتر غیر منکوحہ رہے، انہوں نے عمر بھر شادی نہ کی۔۔۔
بے شک وارث شاہ اپنی بھاگ بھری کے عشق میں مبتلا رہے لیکن ایک مجرد زندگی گزار دی۔ نہ ہی بلھے شاہ نے شادی کی اور نہ ہی شاہ حسین نے۔۔۔ یہاں تک کہ میاں محمد بخش بھی کنوارے ہی رہے۔۔۔ تو کیا اُن کی عظیم شاعری صرف اس لیے وجود میں آئی کہ وہ کبھی شادی کے بندھن میں نہ بندھے۔۔۔

اب میں اپنے قیاس کے گھوڑے دوڑاتا ہوں کہ انہوں نے عمر بھر عورت کی قربت سے، ایک بیوی کی رفاقت سے کیوں گریز کیا۔ شاید اس لیے کہ وہ دنیاوی رشتوں سے ماورا ہو کر اُس ایک عشق میں مبتلا ہو گئے تھے جس کے بعد کسی انسانی عشق کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔۔۔ وہ انسانی رشتوں سے اس لیے گریز کرتے تھے کہ وہ معاشرے کے بندھنوں سے بندھ کر محدود ہو سکتے تھے وہ لامحدود کی جستجو میں تھے۔۔۔ اگرچہ یہ کوئی حتمی کلیہ تو نہیں ہے، بہت سے بڑے تخلیق کار شادی شدہ تھے اور اس کے باوجود انہوں نے بڑی شاعری اور عظیم ادب تخلیق کیا لیکن ذرا دیکھئے کہ۔۔۔ نہ ہمیں عظیم شاعر ہومر اور نہ ہی شیکسپیئر کی بیوی کا سراغ ملتا ہے۔۔۔ غالب اگرچہ شادی شدہ تھے اُن کی اہلیہ نے اُن پر کیسے کیسے ستم ڈھائے، ٹالسٹائی اپنی بیوی سے فرار ہو کر کسی نامعلوم ریلوے سٹیشن پر جا کر مر گیا۔ دوستووسکی کے بارے میں بھی کیا کہہ سکتے ہیں کہ اُس کے شادی شدہ ہونے کا کہیں تذکرہ نہیں۔ لارڈ بائرن تو ویسے ہی ایک کھلنڈرا شخص تھا، میر تقی میر کے بارے میں بس کوئی تحقیق کرے کہ کیا وہ اُسی عطار کے لونڈے سے ہی دوا لیتے تھے یا کبھی منکوحہ بھی ہو گئے۔۔۔ اپنے شیخ سعدی نے بھی ’’بوستان‘‘ میں نہایت حسین لونڈوں کا تذکرہ کیا ہے، کیا کسی کو معلوم ہے کہ انہوں نے کبھی شادی بھی کی۔۔۔ عمر خیام بھی اگرچہ رنگ رنگیلے تھے لیکن اُن کی بیگم کا بھی سراغ نہیں ملتا۔
چند برس پیشتر نیویارک سے کچھ فاصلے پر ٹیری ٹاؤن قصبے میں مشہور امریکی مصنف ارونگ واشنگٹن کا پرانا گھر دیکھنے کا اتفاق ہوا جو دریائے ہڈسن کے کنارے واقع ہے۔ مجھے ارونگ سے لگاؤ اس لیے تھا کہ اس نے ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ نام کی کتاب لکھی جس نے یورپ بھر کو احساس دلایا کہ اُندلس کے شہر غرناطہ کی ایک پہاڑی پر مسلمانوں کے تعمیر کردہ ایک شاہکار قصر کے کھنڈر بکھرے پڑے ہیں اور اس عجوبے کو فنا نہیں ہونا چاہیے چنانچہ اسے بحال کر کے اس کی عظمت کو محفوظ کر لیا گیا۔ ارونگ ایک امریکی سفارت کار کی حیثیت سے غرناطہ تعینات ہوا اور اُس نے الحمرا کے اجڑے ہوئے قصر میں قیام کے دوران1829ء میں ’’الحمرا کی کہانیاں‘‘ اپنے تصور کے کرشمے سے تخلیق کیں ۔۔۔ ’’میں نے ٹیری ٹاؤن کے قبرستان سیپسی ہالو میں اس کی قبر بھی دیکھی اور اس کا پرانا مکان بھی دیکھا اور وہاں گائیڈ نے ہمیں بتایا کہ واشنگٹن ارونگ نے بھی کبھی شادی نہ کی اور اس کی بھتیجیاں اس کی دیکھ بھال کرتی تھیں۔

اب یہ محققین کا کام ہے کہ وہ کھوج لگائیں کہ دنیا کے بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں نے آخر شادی سے کیوں گریز کیا۔ تمام عمر تنہائی میں کیوں بسر کی۔ شاید میں آج تک بڑا مصنف نہیں بن سکا کہ میری تو شادی ہو گئی تھی بلکہ کسی حد تک کر دی گئی تھی۔

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Featured Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    ایک لڑکی ایک جام (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    شاہ کی کنجری (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Search

Author Details

مزمل حسین چیمہ

بوسال سکھا

  • X
  • Instagram
  • TikTok
  • Facebook

Follow Us on

  • Facebook
  • X
  • Instagram
  • VK
  • Pinterest
  • Last.fm
  • TikTok
  • Telegram
  • WhatsApp
  • RSS Feed

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)

Archives

  • July 2026 (33)
  • June 2026 (34)
  • May 2026 (14)
  • April 2026 (1)

Tags

آزاد حسین آزاد (1) آغر ندیم سحر (1) امرتا پریتم (4) اکرم جاذب (9) دائم اقبال دائم (1) سید حسنین محسن (1) شعیب الحسن بوسال (1) عقیل عباس (13) فرح گوندل (2) محبوب زاہد (1) مزمل حسین چیمہ (26) مستنصر حسین تارڑ (13) مظہر اقبال گوندل (1) ندیم اکرم ورک (1) نعیم رضا بھٹی (2) ڈاکٹر فاخرہ نورین (1) یسریٰ وصال (1)

About Us

نگارشاتِ منڈی بہاءالدین

فائنڈورا ڈائریکٹری پر “نگارشاتِ منڈی بہاءالدین” کا باقاعدہ آغاز کیا گیا ہے؛ ایک ایسا ادبی پلیٹ فارم جہاں منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادباء، لکھاری، کالم نگار، محققین اور اہلِ قلم کی تخلیقات کو ایک باوقار اور مستقل جگہ فراہم کی جائے گی۔

یہ پلیٹ فارم نئی اور سینئر دونوں نسلوں کے تخلیق کاروں کے لیے یکساں طور پر وقف ہے، تاکہ ان کی علمی و ادبی خدمات زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکیں اور آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رہیں۔

اگر آپ کا تعلق منڈی بہاءالدین سے ہے اور آپ شاعری، افسانہ، مضمون، کالم، تحقیق یا کسی بھی ادبی صنف میں تخلیق کرتے ہیں، تو ہم آپ کو اس ادبی سفر کا حصہ بننے کی دعوت دیتے ہیں۔

Latest Articles

  • اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    اُسی نے خوابوں میں آ کے نیندوں کو پھر دغا دی ، او ہجرزادی (غزل) فرح گوندل

    July 24, 2026
  • تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    تجارت کا سوال (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026
  • لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    لال مرچ (افسانہ) امرتا پریتم

    July 18, 2026

Categories

  • Uncategorized (1)
  • اسلامی مضامین (8)
  • افسانہ (14)
  • شاعری (34)
  • کالم (6)
  • مزاح (11)
  • مضامین (5)
  • Instagram
  • Facebook
  • LinkedIn
  • X
  • VK
  • TikTok

Proudly Powered by Findora Directory | Managed by: Muzammal Hussain Cheema (Busal)

Scroll to Top