اک بار جی میں آگئیں وہ وادیاں بہت
لیکن بہ راہِ عشق تھیں بربادیاں بہت
ہر چند احتیاط سے چلتا رہا ہوں میں
نچلی ترائیوں میں تھیں کف زادیاں بہت
کچھ عشق سے ہماری تشفی نہ ہو سکی
کچھ تجھ سے مل گئیں ہمیں آزادیاں بہت
تو کیا ہوا کہ دیو سے مشکل ہے معرکہ
جاں بچ گئی تو شہر میں شہزادیاں بہت
تادیر تیرے شہر میں رکنا نہیں ہمیں
جنگل بہت ہیں دوستا، آبادیاں بہت
رہنا فصیلِ شہر کی چوڑائی ناپتے
کرنا امیرِ شام کا استادیاں بہت
عقیل عباس








Leave a Reply