جاٹ تھی اور جوانی الہڑ
اڑ گئی تو نہیں مانی الہڑ
کھیت ہیں اور لچکتی کمریں
اور اک لہر ہے دھانی الہڑ
کیا کنارے پر اگی گھاس کرے
جس قدر تیز ہے پانی الہڑ
بجھ گئی آگ بدن جلنے لگے
بہہ گئی رو میں کہانی الہڑ
تڑکے جاگی تھی کوئی بھاگ بھری
سانس ہم دار مدھانی الہڑ
پھر وہی جھیل کے تیور یعنی
پھر وہی غم کی روانی الہڑ
عقیل عباس








Leave a Reply