پشت پر جھولتے پراندے کو
دیکھ اس اژدہے کے بچے کو
ایسی باریک بین تنہائی
جیسے چشمہ لگا ہو عدسے کو
آنکھ بھرتی رہے گی پانی سے
زنگ لگتا رہے گا لوہے کو
تو ہمیں چھوڑ دے گا رستے میں
اور ہم چھوڑ دیں گے رستے کو
تم ہٹا ہی لو ہاتھ سینے سے
اور پگھلا رہی ہو تانبے کو
زندگی ہے کہ صحنِ مسجد ہے
اس طرح پھینکتے ہیں بچے کو
ہجر دیمک کا جدِ امجد ہے
آن لگتا ہے تندرستے کو
عقیل عباس








Leave a Reply