ہجر پرداز کی سفارت کو
بادشاہا! نبیڑ وحشت کو
اس نے پوشاک سوکھنے کو رکھی
اور خوشبو امڈ پڑی چھت کو
دل کے اکناف میں تراشا ہے
اپنے سینے پہ حرفِ علت کو
ایک فیشن ہے گالیاں دینا
فوج، مذہب، خدا، روایت کو
وہ مقدس ہے اور میں بدکار
بھاڑ میں جھونک دو محبت کو
کارِ درویش میں مخل ہی نہ ہو
روز آیا نہ کر زیارت کو
عقیل عباس








Leave a Reply