کیف عرفانی ایک عہد کا نام ہے۔ ایک ایسا چشمہ جس نے تین نسلوں کو سیراب کیا ہو، پاکستان بھر سے تشنگان علم اس در پہ پہنچتے، ان سے شاعری سیکھتے، اردو تلفظ پر بات کرتے اور علم کی جھولیاں بھر کے واپس لوٹتے۔
کیف عرفانی وہ انسان جنہوں نے اپنی زندگی اردو کی ترویج میں صرف کی، جن کے قدموں میں بیٹھ کر ہم نے شعر کہنا سیکھا، جن استاد کی گفتگو سن کر ہم نے بولنا سیکھا، جن کی زبان دانی سے ایک زمانہ مستفید ہوا۔ آج جب ان کی وفات کا سنا تو یقین جانیں سکتہ طاری ہو گی۔
مجھے وہ دن یاد آ گئے جب 2012ء میں ”لوح ادراک“ (میرا پہلا شعری مجموعہ) تیاری کے مراحل میں تھا، میں مسودہ لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ”استاد مکرم اس مسودے کی درستی کیجیے اور فلیپ کے لیے کچھ لکھ دیجیے“ ۔
مسودہ پڑھا، کچی پنسل پکڑی اور جہاں جہاں عروض کی غلطیاں تھیں، درستی شروع کر دی۔ میری موجودگی میں تقریباً پورا مسودہ دیکھ لیا، مجھے حکم دیا کہ ”ابھی پرنٹنگ کے لیے نہیں بھیجنا، یہ غلطیاں ٹھیک کر کے نیا مسودہ لاؤ۔
میں دوسری بار حاضر ہوا، استاد ان دنوں کافی ضعیف ہو چکے تھے، میرا مسودہ پکڑا اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے دوبارہ درستی شروع کر دی اور یوں یہ عمل تین مرتبہ دوہرایا، پھر کتاب کا مسودہ فائنل کیا اور یوں میری پہلی کتاب شائع ہوئی۔
یہ صرف میرے ساتھ نہیں بلکہ ہر شاگرد سے انہوں نے ایسے ہی محبت کی، ہر شاگرد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، ہر شاگرد کو کتاب دوستی کی طرف راغب کیا بلکہ شاگردوں کو خود کتب عنایت کرتے، انہیں تنبیہہ کرتے کہ اس ماہ یہ کتاب پڑھو، پڑھنے کے بعد استاد محترم اس کتاب پر گفتگو کرواتے اور یہ عمل تقریباً پچاس سال جاری رہا۔ آپ اندازہ کریں کہ پچاس سالوں میں کتنے شاگرد تیار کیے ہوں گے جنہیں علم دوستی اور کتابوں کا عشق سکھایا ہو گا۔

دوستو! کسی بھی ایسے شخص کے بارے میں کچھ تحریر کرنا جس سے آپ نے لکھنا، پڑھنا اور بولنا سیکھا ہو، کس قدر مشکل ہوتا ہے، مجھے آج اندازہ ہو رہا ہے۔ کیف عرفانی جیسے علماء حقیقت میں صدیوں بعد آتے ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگی شاگردوں کے لیے وقف کر دی ہو، جن کی زندگی کا مقصد اردو زبان و ادب کی ترویج ہو۔ آپ بہ یک وقت اردو، پنجابی اور فارسی زبان پر مکمل عبور رکھتے تھے، اردو شاعری بھی کی اور پنجابی زبان میں بھی شعر کہے۔
ان کی پنجابی نظم ”میری جیہڑی دھی رانی اے“ پنجابی سے محبت کرنے والوں کو زبانی یاد ہے۔ ان کے درجنوں شعر زبان زد عام ہوئے۔ سیاسی میدان میں بھی سرگرم رہے ’دائیں بازو کے نظریات رکھتے تھے اور تادم مرگ جماعت اسلامی کا جھنڈا اٹھائے رکھا۔ جماعت اسلامی سے محبت ان کی رگوں میں شامل تھی، ایک آدھ بار الیکشن بھی لڑا جس میں کوئی نمایاں کامیابی نہ ملی مگر اس کے باوجود خدمت خلق کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا جس کا اظہار بارہا دیکھا گیا۔
اپنے نامور شاگرد محمد ضیغم مغیرہ کو اپنا روحانی بیٹا کہتے تھے، دونوں باپ بیٹے نے جماعت سے محبت کا حق ادا کیا۔ دائیں بازو کے معروف دانشور نعیم صدیقی سے اپنی کتاب ”اذن تکلم“ پر لکھوانے گئے تو وہ کہنے لگے کہ ایسی شاعری پر کون نہیں لکھے گا، یوں کیف عرفانی کا پہلا مجموعہ کلام ”اذن تکلم“ نعیم صدیقی کے دیباچے کے ساتھ شائع ہوا تو ہاتھوں ہاتھ بک گیا، یہاں تک کہ ان کے اپنے پاس بھی ”اذن تکلم“ کی کوئی کاپی نہیں تھی۔ پانچ سال قبل ایک طالب علم کیف صاحب پر ایم فل کا مقالہ لکھ رہا تھا، اس نے مجھے اپروچ کیا کہ کسی طرح سے ”اذن تکلم“ تلاش کر دیں، یوں راقم نے بلوچستان کے ایک دوست سے وہ کتاب منگوائی اور مقالہ نگار کو اس کی فوٹو کاپی بھیجی۔
کیف صاحب شہرت گریز آدمی تھے۔ زندگی بھر میڈیا اور اخبارات سے دور رہے۔ راقم نے درجنوں بار ان سے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ لاہور میں ان کے ساتھ شام کا اہتمام کیا جائے مگر ہمیشہ یہ کہہ کر ٹال دیتے کہ ”اب ان کاموں کا وقت نہیں، بقیہ زندگی عاقبت کی تیاری کرنا چاہتا ہوں“ ۔ یہی وجہ ہے کہ نہ مشاعروں کے دوڑ میں شامل ہوئے اور نہ بیوروکریسی سے روابط بنائے حالانکہ اوریا مقبول جان سمیت درجنوں بیوروکریٹ کیف صاحب کے شاگرد ہیں۔