ٹاؤٹ صحافی اور بیوروکریسی کا درباری
ہمارے ملک میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن بعض ستون ایسے بھی ہوتے ہیں جو عمارت کا بوجھ اٹھانے کے بجائے اس کے سائے میں دکان کھول لیتے ہیں۔ انہی میں ایک ممتاز شخصیت “ٹاؤٹ صحافی” ہے، جو بظاہر صحافی اور باطن میں بیوروکریسی کا تعلقاتِ عامہ افسر ہوتا ہے۔
عام صحافی خبر ڈھونڈتا ہے، جبکہ ٹاؤٹ صحافی افسر ڈھونڈتا ہے۔ اس کی صبح کسی پریس ریلیز سے نہیں بلکہ کسی ڈپٹی کمشنر، کمشنر یا سیکریٹری کے دفتر کے چکر سے شروع ہوتی ہے۔ اسے عوامی مسائل سے اتنی دلچسپی نہیں ہوتی جتنی افسر کی نئی گاڑی، نئے بنگلے یا نئی تعیناتی سے ہوتی ہے۔
بیوروکریسی کے ٹاؤٹ صحافی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ہر افسر میں قائداعظم کی دیانت، صلاح الدین ایوبی کی جرات اور ارسطو کی دانشمندی تلاش کر لیتا ہے۔ اگر کوئی افسر دفتر وقت پر آ جائے تو اگلے دن خبر شائع ہوتی ہے:
“ضلع ترقی کی نئی منزلوں کی طرف گامزن۔”
اور اگر وہ افسر دو گھنٹے تاخیر سے آئے تو خبر یوں بنتی ہے:
“انتہائی مصروفیات کے باوجود عوامی خدمت کا سفر جاری۔”
یہ صحافی نہیں، الفاظ کا درزی ہوتا ہے۔ جس افسر کے لیے مضمون لکھتا ہے، اس کے عیب بھی استری کرکے خوبیوں کی طرح پیش کرتا ہے۔
بیوروکریسی کا ٹاؤٹ صحافی اکثر اپنے آپ کو “سینئر تجزیہ کار” کہلواتا ہے، حالانکہ اس کا زیادہ تر تجزیہ اس بات پر مشتمل ہوتا ہے کہ کس افسر کے ساتھ تصویر بنوانی ہے اور کس کے ساتھ تعلقات خراب نہیں کرنے۔ اس کی صحافت کا قبلہ عوام نہیں بلکہ وی آئی پی لاؤنج ہوتا ہے۔
دفتر کے باہر عوام قطار میں کھڑی ہوتی ہے اور اندر ٹاؤٹ صحافی افسر کے کمرے میں چائے پی رہا ہوتا ہے۔ وہ باہر نکل کر عوام کو ایسے دیکھتا ہے جیسے ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے نکل کر لواحقین کو دیکھتا ہے۔ پھر آہستہ سے کہتا ہے:
“فکر نہ کریں، میں نے بات کر لی ہے۔”
حالانکہ اس کی بات کا نتیجہ عموماً اتنا ہی نکلتا ہے جتنا بارش کی دعا سے محکمہ موسمیات کی پیش گوئی پر اثر پڑتا ہے۔
یہ لوگ اخبارات اور سوشل میڈیا پر بیوروکریسی کی تعریف میں ایسے مضامین لکھتے ہیں کہ قاری کو شک ہونے لگتا ہے شاید ملک آئین سے نہیں بلکہ اسی ایک افسر کی ذہانت سے چل رہا ہے۔ اگر کسی افسر نے سڑک پر ایک پودا لگا دیا تو مضمون کا عنوان ہوگا:
“سبز انقلاب کا آغاز۔”
اور اگر اسی پودے کو اگلے ہفتے بکری کھا جائے تو قصور موسمی تبدیلیوں کا قرار دیا جائے گا۔
ٹاؤٹ صحافی اور بیوروکریسی کا رشتہ بھی عجیب ہے۔ ایک کو تشہیر چاہیے اور دوسرے کو قربت۔ یوں دونوں ایک دوسرے کی ضرورت بن جاتے ہیں۔ افسر کو اپنی تصویر اخبار میں چاہیے اور صحافی کو دفتر میں کرسی۔ چنانچہ دونوں کا تعلق قومی مفاد سے زیادہ باہمی مفاد پر قائم ہوتا ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ صحافت کا اصل کام اقتدار سے سوال کرنا ہے، لیکن جب صحافی سوال پوچھنے کے بجائے درباری قصیدے لکھنے لگے تو وہ صحافی کم اور بیوروکریسی کا ٹاؤٹ زیادہ نظر آتا ہے۔ ایسے لوگوں کی وجہ سے خبر کبھی کبھی خبر نہیں رہتی، سرکاری اشتہار معلوم ہونے لگتی ہے۔
تحریر: مزمل حسین چیمہ