سیدہ شریف (سیدا شریف)
ضلع منڈی بہاؤالدین، پنجاب، پاکستان
تعارف
سیدہ شریف (سیدا شریف) ضلع منڈی بہاؤالدین کی ایک قدیم اور خوبصورت دیہی بستی ہے۔ گاؤں اپنی تعلیم یافتہ آبادی، سماجی ہم آہنگی، مذہبی و فلاحی سرگرمیوں اور زرعی معیشت کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
مقامی روایت کے مطابق گاؤں کا نام ایک بزرگ سید صاحب کے نام سے منسوب ہے، جن کا تعلق تارڑ برادری سے تھا۔ وہ کولو تارڑ، ضلع حافظ آباد سے ہجرت کرکے یہاں آ کر آباد ہوئے۔
ان کے تین بیٹے تھے:
احمد پندو — جن کے نام پر بعد میں ڈنڈکا بستی آباد ہوئی۔
تخت محل — جن کے نام سے تخت محل بستی معروف ہوئی۔
ڈھل — جن کے نام سے ایک الگ بستی قائم ہوئی۔
یوں سیدہ شریف کی تاریخی بنیاد ان تین خاندانوں اور ان سے منسلک آبادیوں کی تاریخ سے جڑی ہوئی ہے۔
جغرافیائی محلِ وقوع
سیدہ شریف ضلع منڈی بہاؤالدین کے دیہی علاقے میں واقع ہے اور اردگرد کی متعدد تاریخی و زرعی بستیوں سے منسلک ہے۔
اردگرد کی آبادیاں
مشرق: ڈھولا
مغرب: بھیکھو
جنوب: قادرآباد اور ٹھٹھہ خان محمد
شمال: سیرے
شمال مغرب: تخت محل اور ڈنڈکا
آبادی اور سماجی ماحول
سیدہ شریف کے باشندے مقامی طور پر مہمان نواز، محنتی، نیک اخلاق اور باہمی احترام کے حامل سمجھے جاتے ہیں۔
گاؤں میں صلح و محبت اور سماجی ہم آہنگی کی روایت پائی جاتی ہے۔ مقامی معلومات کے مطابق باہمی جھگڑے اور دیرینہ رنجشیں نسبتاً کم ہیں، جبکہ تعلیم اور معاشرتی عزت کو اہمیت دی جاتی ہے۔
اہم ذاتیں اور برادریاں
گاؤں میں مختلف برادریاں آباد ہیں، جن میں تارڑ برادری سب سے بڑی برادری ہے اور مقامی معلومات کے مطابق آبادی کا تقریباً 70 فیصد حصہ ہے۔
دیگر برادریوں میں مہاجر، رانا/راجپوت، آرائیں، رانجھے، گوندل، ترکھان، لوہار، موچی، میراثی اور نائی شامل ہیں۔
اہم خاندان
سیدہ شریف میں مختلف خاندان اپنی مخصوص خاندانی شناخت کے ساتھ آباد ہیں۔
خواجہ کے — شیر کے تارڑ:یہ خاندان تارڑ برادری سے تعلق رکھتا ہے۔
پھاہر کے — غلام حیدر تارڑ: غلام حیدر تارڑ ولد شیر محمد تارڑ سے منسوب خاندانی سلسلہ۔
جعفر کے — عطا محمد تارڑ: عطا محمد تارڑ ولد محمد حسین تارڑ سے منسوب خاندان۔
مہا کے — عطا محمد: عطا محمد ولد جلال نمبردار سے منسوب خاندان۔
السلام کے — محمد شریف: محمد شریف ولد محمد گوندل دلوانہ سے منسوب خاندان۔
ذرائع آمدن
سیدہ شریف کے بیشتر باشندوں کا بنیادی ذریعہ معاش زراعت ہے۔ اس کے علاوہ گاؤں کے لوگ کاروبار، محنت مزدوری اور سرکاری ملازمتوں سے بھی وابستہ ہیں۔
گاؤں میں بعض نمایاں کاروباری ادارے بھی قائم ہیں۔
پرویز صادق تارڑ کا کولڈ اسٹور
زرعی اجناس اور متعلقہ کاروباری سرگرمیوں سے وابستہ اہم مقامی ادارہ۔
السلام فلنگ اسٹیشن
گاؤں اور گردونواح کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی سہولت فراہم کرنے والا کاروباری مرکز۔
گوندل برکس کمپنی
محمد نواز گوندل (دیلوانہ) سے منسوب کاروباری ادارہ۔
القادر برکس کمپنی
امتیاز احمد تارڑ کی قائم کردہ کاروباری سرگرمی۔
تعلیم
سیدہ شریف میں سرکاری اور نجی شعبے کے مختلف تعلیمی ادارے موجود ہیں، جن میں:
گورنمنٹ ہائی اسکول برائے طلبہ
گورنمنٹ گرلز ایلیمنٹری اسکول
جامع پبلک ماڈل ہائی اسکول
فرقان ماڈل اسکول
جامعہ معارف القرآن
شامل ہیں۔
تعلیمی اداروں کے قیام اور گاؤں کی تعلیم یافتہ آبادی نے سیدہ شریف کی سماجی شناخت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
فلاحی تنظیم
انجمن جانثارانِ مصطفی ﷺ
انجمن جانثارانِ مصطفی ﷺ سیدہ شریف کی ایک فعال سماجی و فلاحی تنظیم ہے جو مختلف فلاحی، طبی، تعلیمی اور مذہبی سرگرمیوں میں کردار ادا کرتی ہے۔
اہم اراکین
ڈاکٹر محمد یوسف
انجمن کے اہم اراکین میں شامل ہیں۔
محمد منشا راجپوت
فلاحی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی نمایاں شخصیت۔
عابد محمود شاہ
انجمن کے اہم اراکین میں شامل ہیں۔
ملک احمد خان
سماجی و فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ شخصیت۔
سیف اللہ تارڑ
انجمن کے اہم اراکین میں شامل ہیں۔
ماسٹر خالد محمود
تعلیمی و سماجی حوالے سے معروف شخصیت۔
مولوی شیر محمد
دینی و فلاحی سرگرمیوں میں کردار ادا کرتے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق
طبی و فلاحی سرگرمیوں سے وابستہ رکن۔
فلاحی خدمات
انجمن کی سرگرمیوں میں فلاحی منصوبوں کا انتظام، غریب بچیوں کی شادیوں میں مالی معاونت، مستحق مریضوں کے مفت علاج کا انتظام، سالانہ مفت آنکھوں کے آپریشن کیمپ، مستحق طلبہ کے لیے اسکالرشپس اور گرمیوں کی چھٹیوں میں مفت ٹیوشن سینٹر شامل ہیں۔
تنظیم مذہبی اجتماعات، نعت خوانی اور میلاد کی تقریبات کے انعقاد میں بھی حصہ لیتی ہے۔
دینی شخصیات
سابقہ دینی شخصیات
خواجہ محبوب عالم
سیدہ شریف کی سابقہ دینی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
مولوی خوشی محمد
گاؤں کی سابقہ دینی شخصیات میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔
مولوی نذیر احمد
سابقہ دینی شخصیات میں شامل ہیں۔
خواجہ صدیق احمد
گاؤں کی سابقہ دینی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
موجودہ دینی شخصیات
صاحبزادہ محمد احمد
موجودہ دور کی نمایاں دینی و سماجی شخصیات میں شامل ہیں۔
مولوی محمد رفیق احمد شاد
ولد خوشی محمد، موجودہ دینی شخصیات میں شامل ہیں۔
مولوی معیودین
ولد نذیر احمد، گاؤں کی موجودہ دینی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ اور پیشہ ور شخصیات
ڈاکٹر احمد خان تارڑ
امریکہ میں مقیم ڈاکٹر۔
ڈاکٹر محمد نواز انجم
سعودی عرب میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر۔
ڈاکٹر سقراط احمد تارڑ
طبی شعبے سے وابستہ شخصیت۔
کرنل صاحبزادہ الطاف محمود
پاک فوج سے وابستہ اعلیٰ افسر۔
میجر محمد انور تارڑ
پاک فوج سے وابستہ افسر۔
فیض احمد
اٹامک انرجی میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر۔
فاروق احمد
اٹامک انرجی میں ایکسئین۔
شوکت علی
نیشنل بینک منڈی بہاؤالدین میں منیجر۔
مظہر اقبال تارڑ
نیشنل بینک، ہیڈ فقیران میں منیجر۔
مسعود صادق تارڑ
کسٹمز انسپکٹر۔
ماسٹر نذیر احمد
گورنمنٹ ہائی اسکول سیدہ شریف کے استاد۔
محمد خان
پولیس افسر اور ایس ایچ او کے طور پر خدمات انجام دینے والی شخصیت۔
ڈاکٹر عارف ندیم
لاہور میں طبی خدمات سے وابستہ ہیں۔
ذہیم نواز تارڑ
ایٹمی شعبے سے وابستہ افسر۔
ساجد نواز تارڑ
انجینئر اور وکیل۔
نمایاں سماجی شخصیات
چودھری شیر محمد تارڑ مرحوم
سیدہ شریف کی معروف سماجی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔
ممتاز احمد تارڑ
سابق ایم پی اے اور وفاقی وزیر انسانی حقوق پاکستان کے منصب پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
حاجی صالح محمد تارڑ
گاؤں کی نمایاں سماجی شخصیت۔
حاجی محمد صادق تارڑ
سماجی حوالے سے معروف شخصیت۔
امتیاز احمد تارڑ
ناظم کی حیثیت سے مقامی امور سے وابستہ رہے۔
محمد اسلم تارڑ
گاؤں کی معروف سماجی شخصیت۔
ٹھیکیدار محمد نواز گوندل
تعمیراتی شعبے سے وابستہ کاروباری و سماجی شخصیت۔
صاحبزادہ محمد احمد
پنجاب پولیس میں انسپکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
سکندر حیات تارڑ
چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والی شخصیت۔
چودھری محمد اشرف تارڑ
گاؤں کی معروف سماجی شخصیت۔
چودھری محمد منشاء حسین تارڑ
سماجی حوالے سے نمایاں شخصیت۔
چودھری احمد رضا تارڑ
گاؤں کی معروف شخصیت۔
ساجد تارڑ
سماجی طور پر معروف شخصیت۔
چودھری خرم اسلم تارڑ
گاؤں کی نمایاں سماجی شخصیات میں شامل ہیں۔
زراعت اور اہم فصلیں
سیدہ شریف کی معیشت میں زراعت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ یہاں کی زرعی زمینوں میں گندم، کپاس، چاول، گنا، تمباکو، مسور، مکئی اور آلو سمیت مختلف فصلیں کاشت کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی سبزیاں بھی بڑی مقدار میں پیدا کی جاتی ہیں۔
کھیل
سیدہ شریف میں کرکٹ، کبڈی اور والی بال مقبول کھیل ہیں۔ یہ کھیل بالخصوص نوجوانوں میں جسمانی سرگرمی، باہمی میل جول اور اجتماعی سرگرمیوں کا اہم ذریعہ ہیں۔
سیدہ شریف کی نمایاں شناخت
سیدہ شریف کی تاریخی شناخت ایک قدیم تارڑ خاندان کی آبادکاری سے جڑی ہوئی ہے، جبکہ وقت کے ساتھ مختلف برادریوں نے یہاں سکونت اختیار کرکے اس بستی کے سماجی ڈھانچے کو متنوع بنایا۔
گاؤں کی نمایاں خصوصیات میں تعلیم یافتہ آبادی، زراعت، مختلف پیشہ ور شعبوں میں خدمات انجام دینے والے افراد، مذہبی روایت، فلاحی سرگرمیاں، سماجی ہم آہنگی اور کھیلوں کی روایت شامل ہیں۔
خاص طور پر انجمن جانثارانِ مصطفی ﷺ کی فلاحی سرگرمیاں گاؤں کی اجتماعی زندگی کا اہم حصہ ہیں۔
سیدہ شریف (سیدا شریف) ضلع منڈی بہاؤالدین کی ایک تاریخی اور معروف دیہی بستی ہے۔ مقامی روایت کے مطابق اس کا تعلق ایک بزرگ سید صاحب سے ہے جو کولو تارڑ، ضلع حافظ آباد سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے۔ ان کے تین بیٹوں احمد پندو، تخت محل اور ڈھل سے منسوب بستیاں آج بھی اس تاریخی سلسلے کی یادگار سمجھی جاتی ہیں۔
گاؤں میں تارڑ برادری اکثریت رکھتی ہے جبکہ مہاجر، رانا/راجپوت، آرائیں، رانجھے، گوندل، ترکھان، لوہار، موچی، میراثی اور نائی سمیت دیگر برادریاں بھی آباد ہیں۔
زراعت یہاں کا بنیادی ذریعہ معاش ہے جبکہ کاروبار، سرکاری ملازمت اور محنت مزدوری بھی آمدن کے اہم ذرائع ہیں۔ گاؤں میں متعدد سرکاری و نجی تعلیمی ادارے، جامعہ معارف القرآن اور ایک فعال فلاحی تنظیم انجمن جانثارانِ مصطفی ﷺ موجود ہے۔ سیدہ شریف نے طب، فوج، پولیس، بینکاری، اٹامک انرجی، قانون اور دیگر شعبوں میں متعدد تعلیم یافتہ و پیشہ ور افراد پیدا کیے ہیں۔
مقامی حوالہ: اس پروفائل میں تاریخی پس منظر، خاندانوں، آبادی، شخصیات، اداروں اور مقامی خصوصیات سے متعلق معلومات فراہم کردہ مقامی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ تاریخی روایات کی حتمی تصدیق کے لیے سرکاری ریکارڈ اور مستند تاریخی دستاویزات سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔





